Home / Article / ’’مجنوں برائے تقلید اغیار‘‘

’’مجنوں برائے تقلید اغیار‘‘

شہزاد اعظم

مجنوں کے بارے میں ہم نے سن رکھا ہے کہ وہ لیلیٰ سے پاگل پنے کی حد تک محبت کرتا تھا۔لیلیٰ جو پیغام بھجواتی اس پر مجنوں فوری عملدرآمد کرتا تھا۔کسی نے کہا کہ لیلیٰ نے کہا ہے کہ الٹے لٹک جائو تووہ ساری رات الٹا لٹکا رہا ۔ ایک دن راستے میں مجنوں کو دیکھ کر کسی کُتےنے بھونکنا شروع کر دیا۔ اس نے کتے کو پتھر مار کر بھگانے کی کوشش کی۔ یہ منظر دیکھ کر ایک راہگیر نے کہا کہ یہ لیلیٰ کا کتا ہے، بس پھر کیا تھا، وہ کتے کے سامنے جا بیٹھا کہ ’’آپ کا خادم حاضر ہے،اب جتنا چاہے اور جب تک جی چاہے بھونکئے پلیز! ‘‘

ہمارے ہاں بھی بعض لوگ اور بعض ’’شخصیات‘‘عاقبت نا اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی ممالک کی’’بُری روایات‘‘ کواسی طرح چاہتے ہیں جس طرح لیلیٰ پر مجنوں فریفتہ تھامگر افسوس کہ انہیں مغرب کی ’’اچھی روایات‘‘ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔مغرب کی ’’بُری‘‘ روایات میں فحاشی، بے لگام آزادی اور خود سری وغیرہ شامل ہیں۔ وہاں کی ایک بدترین روایت یہ ہے کہ وہ لوگ والدین کو ازکارِ رفتہ قسم کی ’’اشیائ‘‘ سمجھتے ہیں اس لئے وہ انہیں ’’اولڈ ہاؤسز‘‘ میں ’’جمع‘‘ کرا دیتے ہیں پھر سال میں ایک مرتبہ وہ ’’فادرز ڈے‘‘ اور’’مدرز ڈے‘‘ پر باپ یا ماں سے ملنے چلے جاتے ہیںاور والدین بے چارے ان اولڈ ہاؤسز میں زندگی کے دن اور اولاد سے ملنے کی گھڑیاں گنتے گنتے مر جاتے ہیں۔ ان کے برخلاف ہمارے ہاں اولاد اپنے والدین کو زندگی کاقیمتی اثاثہ قرار دے کر ان کی خدمت کے لئے خود کو وقف کرنے کی عادی رہی ہے۔ اب ہمارے مشرق اور ان کے مغرب میں اتنا بڑا تضاد تھا کہ مغرب میں اولادسال بھر میں ایک دن والدین سے ملتی ہے جبکہ مشرق میں سال بھر میں شاید ہی کوئی ایک دن ایسا ہوتا ہے جب اولاد والدین کی آنکھ سے اوجھل رہ کر ’’عیش‘‘ کر لے۔اس صورتحال میں ہمارے ہاں مغربی روایات کی ’’لیلیٰ‘‘ پر فریفتہ مجنوں شرمسار ہوتے تھے کہ ہم فادر اور مدر ڈے منانے کے حوالے سے ’’رمددپھٹوؤں‘‘ یعنی ایروں غیروں نتھو خیروںکی تقلید نہیں کر پا رہے۔ اس کے لئے انہوں نے کئی دہائیوں پر محیط ’’صبرآزما‘‘ حکمت عملی اپنائی جس کے تحت انہوں نے بعض ناخلف اور نافرمان قسم کے نوجوانوں کی کھیپ تیار کی اور اور ساتھ ہی ’’اولڈ ہاؤسز‘‘ قائم کئے پھر ان بد قسمت اولادوں سے کہا کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کوان ’’اولڈہاؤسز‘‘میں داخل کرا دیں۔انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد اُن ’’مجنوؤں‘‘ نے فادر ڈے اور مدر ڈے منانا شرع کر دیئے۔

مغربی ممالک میں اس امر کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وہاں بچے جھوٹ بولتے ہیں اور نہ بڑے۔ انتہائی حیرت انگیز اور ناقابل یقین بات یہ ہے کہ وہاں کے سیاست داں بھی جھوٹ نہیں بولتے۔ یقینا آپ سمجھیں گے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں حالانکہ یہ سچ ہے کہ وہ اپنے عوام سے یا اپنے وطن کے حوالے سے جھوٹ نہیں بولتے تاہم’’ سیاسی رکھ رکھاؤاور سیاسی انا کی تشفی ‘‘کے لئے جب ا نہیں جھوٹ بولنا ہو تو وہ غیروں سے جھوٹے وعدے کر تے ہیں ، انہیں سبز باغ دکھاتے ہیں،ان پربے بنیاد الزامات رکھتے ہیں اور گاہے انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے ہیں مگر اپنوں سے بالکل جھوٹ نہیں بولتے۔اب یہ بھی تو مغرب کی ایک روایت ہے مگر ہمارے ہاں اس کی تقلید سرے س نہیں کی جاتی۔ ہمارا عالم تو یہ ہے کہ ہم اپنوں سے جھوٹ بولتے ہیں، انہیں سبز باغ دکھاتے ہیں، اپنوں پر ہی بے بنیاد الزامات رکھتے ہیں اور جب دل چاہتا ہے انہیں اپنے ہاتھوں سے صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے ہیں اور پھر جھوٹ بول دیتے ہیں کہ ’’قاتلوں کو معاف نہیں کیا جائے گا، انہیں کیفرِ کردار تک پہنچا کر ہی دم یعنی سانس لیا جائے گاگویا قاتلوں کو گرفتار کرنے تک سانس روک کر رکھا جائے گا ۔ یہ کہہ کر وہ مزے سے خراٹے لے کر سوتے ہیں۔وہ سیاستداںوطن کو ہر آنچ سے بچاتے ہیں اور غیروں کا ستیا ناس کرتے ہیں، ہم وطن کا ستیا ناس کرتے ہیں اور غیروں کو ہر آنچ سے بچاتے ہیں۔ وہ ڈگریاں لے کر سیاست میں آتے ہیں، ہم سیاست میں آ کر ڈگریاں لیتے ہیں۔ وہ اختیار مل جانے پر خزانہ بھرتے ہیں، ہم اختیار مل جانے پر خزانہ خالی کرتے ہیں۔وہ حکومت میں آ کرقومی بینکوں کوقرضے دیتے ہیں، ہم حکومت میں آ کر قومی بینکوں سے قرضے لیتے ہیں۔ وہ انتخابات جیت کر غیروں سے ٹیڑھا منہ کر کے بات کرتے ہیں اور اپنوں کی خدمت میں جُت جاتے ہیں۔ ہم انتخابات جیت لیں تو غیروں کی خدمت میں جُت جاتے ہیں اور اپنوں سے ٹیڑھا منہ کر کے بات کرتے ہیں۔وہاں کا سیاستداں اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پسارتا ہے اور ہمارے ہاںدوسروں کے پیروں سے چادر گھسیٹ لی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں کے مجنوں اگر مغرب کی تقلید نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم اچھی روایات کی لیلیٰ کو بھی اپنے دل میں بسا لیں اور بری روایات کو خیرباد کہہ دیں پھر دیکھیں ہم بھی ’’ڈکٹیٹ‘‘ کرنے والوں میں شامل ہوجائیں گے۔

About admin

Check Also

It’s Articles Like This — About Cultural Appropriation — That Will Making America “Great” Again

Grace Cheng, the woman who wrote this article — White People Need To Stop Wearing The …