Islamic

جب روح نکلتی ہے توانسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟

Written by blogger4zero

جب روح نکلتی ہے تو انسان کا منہ کھل جاتا ہے ہونٹ کسی بھی قیمت پر آپس میں چپکے ہوئے نہیں رہ سکتے روح پیر سے کھنچتی ہوئی اوپر کی طرف آتی ہے جب پھیپھڑو اور دل تک روح کھینچ لی جاتی ہے تو انسان سانس باہر کی طرف ہی چلنا لگتی ہے یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان شیطان اور فرشتوں کو دنیا میں اپنے سامنے دیکھتا ہے ،ایک طرف شیطان اس کے کان کے ذریعہ کچھ مشورے تجویز کرتا ہے تو دوسری طرف اس کی زبان اس کے عمل کے مطابق کچھ لفظ ادا کرنا چاہتی ہے اگر انسان نیک ہوتا ہے تو اس کا دماغ اس کی زبان کو کلمہ اے شہادت کی ہدایت دیتا ہے اور اگر انسان کافر مشرک بددين یا دنیا پرست ہوتا ہے تو اس کا دماغ كن ويوژن اور ایک عجیب ہیبت کا شکار ہو کر شیطان کے مشورے کی پیروی ہی کرتا ہے اور انتہائی مشکل سے کچھ زبان سے ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔یہ سب اتنی تیزی سے ہوتا ہے کی دماغ کو دنیا کی فضول باتوں کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا ۔

انسان کی روح نکلتے ہوئے ایک زبردست تکلیف ذہن محسوس کرتا ہے لیکن تڑپ نہیں پاتا کیونکہ دماغ کو چھوڑ کر باقی جسم کی روح اس کے حلق میں اکٹھی ہو جاتی ہے اور جسم ایک گوشت کے بیجان لوتھڑے کی طرح پڑا ہوا ہوتا ہے جس میں کوئی حرکت کی گنجائش باقی ہی نہیں رہتی ،آخر میں دماغ کی روح بھی کھینچ لی جاتی ہے آنکھوں روح کو لے جاتے ہوئے دیکھتی ہیں اس آنکھوں کی پتلیاں اوپر چڑھ جاتی ہیں یا جس سمت فرشتہ روح قبض کرکے جاتا ہے اس طرف ہو جاتی ہیں اس کے بعد انسان کی زندگی کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جس میں روح تکلیفوں کے تہہ خانوں سے لے کر آرام کے محلات کی آہٹ محسوس کرنے لگتی ہے جیسا کہ اس سے وعدہ کیا گیا ہے جو دنیا سے گیا وہ واپس کبھی نہیں لوٹا صرف اس لئے کیونکہ اس کی روح عالم اے برذكھ میں اس گھڑی کا انتظار کر رہی ہوتی ہے جس میں اسے اس کا ٹھکانا دے دیا جائے گا اس دنیا میں محسوس ہونے والی طویل مدت ان روحوں کے لیے چند سےكےڈو سے زیادہ نہیں ہوگی یہاں تک کہ اگر کوئی آج سے کروڑوں سال پہلے ہی کیوں نہ مر چکا ہو، مومن کی روح اس طرح کھینچ لی جاتی ہے جیسے آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے گناہ گار کی روح خار دار درخت پر پڑے سوتی کپڑے ھیںچو کی طرح کھینچی جاتی ہے ۔اللہ تعالی ہم سب کو موت کے وقت کلمہ نصیب پھرماكر آسانی کے سات روح كبذ فرما اور نبی اے پاک صلی الےهي و وسلم کا دیدار نصیب فرما(آمین یا رب العالمین)! ۔

source

About the author

blogger4zero

Leave a Comment