Home / Interesting / کل تک میں پرائیویٹ ہوائی جہاز، بحری جہاز اور گھروں کی مالک تھی لیکن اب

کل تک میں پرائیویٹ ہوائی جہاز، بحری جہاز اور گھروں کی مالک تھی لیکن اب

ماسکو انسان پیسے کی محبت میں ضرور دیوانہ ہو جاتا ہے، لیکن یہ پیسہ ایسی شے ہے جسے کسی سے بھی محبت نہیں ہوتی۔ جبھی تو ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی دنیا جہان کی دولت کسی کے سامنے ہاتھ باندھی کھڑی ہوتی ہے اور پھر دن یوں پلٹتے ہیں کہ وہی دولتمند کوڑی کوڑی کو محتاج ہو جاتا ہے۔ ایک ایسی ہی المناک مثال روسی حسینہ الیگزینڈارا ٹالسٹائی بھی ہے، جو محض چند ہفتے پہلے مہنگے ترین گھر میں رہتی تھی، دنیا بھر کی سیر کرتی تھی، اس کے اپنے پرائیویٹ ہوائی اور بحری جہاز تھے، لیکن آج اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔ تنگ دستی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے تین بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے کسی ملازمت کی تلاش کرتی پھر رہی ہے۔
میل آن لائن کے مطابق 43 سالہ الیگزینڈراروس کی دولتمند ترین شخصیات میں سے ایک سرگئی پوگاشیف کی اہلیہ ہیں۔ سنہری بالوں والی الیگزینڈرا کے شوہر چند ہفتے قبل تک روس اور بیرون ملک درجنوں جائدادوں کے مالک تھے اور اور ان کے کاروبار پورے دنیا میں پھیلے ہوئے تھے۔

وہ کبھی روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے قریب سمجھے جاتے تھے اور ایک بڑے بینک کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں تھا۔ ان کی بدقسمتی کے بالآخر روسی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہو گئے اور وہ زیر عتاب آ گئے۔ روسی حکومت نے ملک میں تو ان کی تمام جائداد اور کاروبار پہلے ہی اپنی تحویل میں لے لی تھی لیکن اب بیرون ملک جائداد اور اثاثے بھی ان کی ملکیت نہیں رہے۔

روس کی حکومت نے برطانیہ میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔ اس مقدمے میں روسی حکومت نے مﺅقف اختیار کیا تھا کہ سرگئی پوگاشیف نے اپنی تمام دولت جعلسازی اور فراڈ سے بنائی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں اپنے زیرانتظام بینک کی رقم میں بھاری خورد برد کی اور اس پیسے کی مدد سے بیرون ملک جائداد خریدی تھی۔

طویل سماعت کے بعد بالاخر لندن ہائی کورٹ نے روسی حکومت کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں روسی حکومت کو اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ سرگئی کی ساری جائداد ضبط کر لے۔اس کی اہلیہ الیگزینڈرا اپنے تین بچوں کے ساتھ لندن میں ہی مقیم تھی، لیکن اس کا محل نما گھر اب اس کا نہیں رہا۔

الیگزینڈرا نے اپنی بدقسمتی کا رونا روتے ہوئے کہا ”میرے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا۔ میں جس گھر میں بیٹھی ہوں یہ بھی مجھے خالی کرنا ہو گا۔ دراصل میرے بچوں کے پاس کچھ نہیں رہا۔ اب ان کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔ میرے پاس اب کوئی چارہ نہیں سوائے اس کے کہ روس واپس چلی جاﺅں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے کوئی کام تلاش کروں۔

مجھے اس بات پر اب تک یقین نہیں آ رہا کہ کل تک میرے پاس دنیا کی ہر نعمت تھی اور آج میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ یہ ایک بھیانک حقیقت ہے جسے بہر طور قبول کرنا ہی ہو گا۔ اب مجھے اپنے بچوں کے لئے یہ تلخ حقیقت قبول کر کے ایک نئی زندگی کے لئے ہاتھ پاﺅں مارنا ہوں گے۔“

About admin

Check Also

People Are Turning Their Eyebrows Into Christmas Trees, And The Result Is Truly Festive

It’s a fun to make something special on Christmas some people decorate home some decorate car …